“Dukhi shayari ki adbiyat mein, do misron mein chhupi gehraai aur taqleef ka izhar hai. Har lafz ek dard bhari dastan sunata hai, dil ko chu leta hai. Yeh shayari zindagi ke asal rang ko bayan karti hai – tanhaai, ansoon, aur dukh ka ahsaas.”

کاش تو پوچھے مجھ سے میرا حال دل ۔ میں تجھے ہی رولا دوں گی تیرے ہی ستم سنا سنا کر

زندگی میں بار بار سہارا نہیں ملتا ۔ بار بار کوئی جان سے پیارا نہیں ملتا۔ ہے جو پاس اسے سنبھال کے رکھنا۔ کھو کر وہ پھر کبھی دوبارہ نہیں ملتا۔

ﮐﺒﮭﯽ ﻣﺼﺮﻭﻑ ﮐﺒﮭﯽ ﺑﮩﺎﻧﮯ ﮐﺒﮭﯽ …..ﻣﺠﺒﻮﺭﯾﺎﮞ ﺗﻢ ﺻﺎﻑ ﻟﻔﻈﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺧﺪﺍ ﺣﺎﻓﻆ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮩﺘﮯ…؟؟؟

ﺁﯾﺎ ﻧﮧ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﺑﮭﯽ ﻋﯿﺎﺩﺕ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻭﮦ ﺳﻮ ﺑﺎﺭ ﮨﻢ ﻓﺮﯾﺐ ﺳﮯ ﺑﯿﻤﺎﺭ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ

نیند اس سوچ سے ٹوٹی اکثر کس طرح کٹتی ہیں راتیں اس کی

 

نکال لو تھوڑا وقت ہمارے لیے بھی کہیں ایسا نہ ہو کے تمہیں وقت تو ملے پر ہم نہ ملے

میں مانگ رہا تھا تجھ کو خدا سے پھر مجھے یاد آگئیں مجبوریاں تیری

سمٹ گئی میری غزل بھی چند الفاظوں کی طرح جب اس نے کہا محبت تو ہے پر تم سے نہیں

اس سے کہو مجھے وہ پتھر مارے وہ پتھر جو اس کے سینے میں ہے۔

بچھڑنے سے پہلے موسم تو دیکھ لیتے سردیوں کے زخم کب بھرا کرتے ہیں

کتنی مختصر سی ہے محبت کی داستاں ہے خوش فہمی سے شروع اور غلط فہمی پہ ختم

الوداع اے یار تیری جان چھوڑ دی ہم نے لکھ کر آج خود کو بیوفا قلم توڑ دی ہم نے

چپکے چپکے دکھ سہتا ہوں اب میں اکثر خوش رہتا ہوں

آج شدت سے دل چاہ رہا ہے بند آنکھیں کھولوں تو سامنے تم ہو

پہلے تجھ کو تمنا میری تھی اور مجھ کو تمنا تیری تھی۔ اب تجھ کو تمنا غیر کی ہے جا تیری تمنا کون کرے۔

بے قدرے لوگوں سے جزبات جوڑ کر سواۓ رسواٸی کے کچھ نہیں ملتا

یہ بھی ہوسکتا ہے کل زہر میسر ہی نہ ہو ہم نے اسی خوف سے سانپ بھی پال رکھے ہیں

ذرا سی دیر میں اترے گا جب خمار جہاں ‏اس ایک شخص نے بے حد پکارنا ہے مجھے

میں جی تو لوں گا اب تیرے بغیر لیکن سن سانس کھینچنے اور لینے میں فرق ہوتا ہے۔

کچھ تو ہے تیرے میرے درمیان۔۔ ورنہ یوں بچھڑ کے کوئی بار بار نہیں ملتا۔۔

زندگی کی راہوں میں عشق نا ملے اس بے درد زمانے سے کچھ نا ملے ہم افسوس کیوں کریں وہ ہمیں نا ملے ارے افسوس تو وہ کرے جسے ہم نا ملے

ہمیشہ یاد رکھنے کی کھائی تھی قسمیں جس نے پتا نہیں وہ بھول کیسے گیا میرے ساتھ رہنا تھا جس نے عمر بھر پتا نہیں وہ چھوڑ کیسے گیا جو وعدے کیے تھے اس نے پیار میں پتا نہیں وہ توڑ کیسے گیا

‏ٹکڑے پڑے تھے راہ میں تصویر کے بہت ‏لگتا ہے کوئی دیوانہ سمجھدار ہو گیا

یہ جو آج کل انداز بے رخی اپنایا ہوا ہے نہ اس سے ذرا بھی فرق نہیں پڑے گا میری وفا پہ

اک طرفہ سہی ہم نے محبت نبھائی ہے ہم تیرے بعد اور کسی کے نہیں ہوئے

خود کو چھوڑ گیا ہے مجھ میں یہ جانا بھی کوئی جانا ہوا

‏ہونٹوں کی ہنسی کو نہ سمجھ حقیقت زندگی دل میں اتر کے دیکھ کتنے ٹوٹے ہوئے ہیں ہم

مسئلہ تیسرا شخص تھا مگر ہم نے ایک دوسرے کو چھوڑ دیا

اتنا بھاگا ہوں تیرے پیچھے پیروں سے زیادہ دل پے چھالے ہیں

آخری ملاقات میں بھی وہ اپنی مجبوریاں بتانے آیا تھا

کیا معلوم کہ دل میں درد ہے۔ یہ اور بات ہے کہ ہم مسکرا کر جیتے ہیں۔

وقت ہی نہیں رہا کسی سے وفا کرنے کا حد سے زیادہ چاہو تو لوگ مطلبی سمجھ لیتے ہیں

میں نے خود کو ہی بےوفا کہلانا پسند کیا مجھ سے برداشت نہ ہوتا ان کا شرمندہ ہونا

یہ کہہ کر اس نے مجھے چھوڑ دیا تیرے اپنے بہت ھیں تجھے رلانے کے لیے

میں ایسے شہر میں بنیاد وفا کیا رکھوں جہاں لوگ عشق بھی کرتے ہیں مشورہ کر کے

آو کچھ دیر تزکرہ ہی کر لیں ان دنوں کا جب تم ہمارے تھے

نہیں ہو گا کمزور کبھی تمہارا ہمارا رشتہ۔ یہ تو وقت کی سازش کبھی تم مصروف کبھی ہم مصروف ۔

مجھے اپنے کردار پہ اتنا تو یقین ہے۔ کوئی مجھے چھوڑ تو سکتا ہے مگر بھلا نہیں سکتا۔

اس قدر میرے پیار کا اِمتحان نہ لیجیے خفا ہو کیوں مجھ سے یہ بتا تو دیجیے معاف کر دو گر ہوگئی ہو ہم سے کوئی خطا پر یاد نہ کر کے ہمیں سزا تو نہ دیجیے

عشق میں میرا ٹوٹنا ضروری تھا کانچ کا دل تھا اور محبت پتھر سے کی

Leave A Reply

Please enter your comment!
Please enter your name here