یتیم کی زندگی

ایک چھوٹے سے گاؤں کے کچھ ہی دور، ایک چھوٹی سی لڑکی روزیا آبادی میں رہتی تھی۔ روزیا کے والدین کچھ سال پہلے ہی اس دنیا سے رخصت ہوگئے تھے اور اب وہ ایک یتیم لڑکی کی شکل میں اپنی زندگی کو گزار رہی تھیں۔

روزیا کے دل میں ایک خواہش تھی، وہ چاہتی تھی کہ وہ اپنے والدین کی طرح اچھی انسان بنے اور کام کر کے اپنی زندگی کو بہتر بنائیں۔ اسی خواہش کے ساتھ، وہ روز رات اپنی کتابوں میں مشغول رہتی اور اپنے ارادے کو پورا کرنے کی کوشش کرتی۔

ایک دن، گاؤں کے ایک امیر آدمی نے سنا کہ یہ یتیم لڑکی بڑی عقلمند ہے اور اونٹوں کی دیکھ بھال کرنے کا کام کرتی ہے۔ وہ اس کو اپنے ہاؤس پر رکھنے کی پیشکش کی، لیکن وہ سوچتا تھا کہ روزیا کو کچھ دنوں کے لئے کام کرنے کے بعد اس کو پرچھائی کے لئے استخدام دیں گے۔

روزیا نے اس پیشکش کو قبول کیا اور گاؤں کے امیر کے ہاؤس پر رفتار کرنے کے بعد وہ کام کرنے لگی۔ وہ اپنے کام کو دل سے کرتی اور اپنی محنت اور سچائی سے لذت اندوز ہوتی۔ اس کے علاوہ، وہ اپنے فرائض کو بھی بہت اچھی طرح سے انجام دیتی اور امیر کے لئے ایک قیمتی ملازم ہوگئی۔

کچھ سالوں بعد، امیر کی صحت کھراب ہوگئی اور وہ اپنے آخری دنوں کو گزارنے لگے۔ روزیا نے اپنی محبت اور دیکھ بھال سے امیر کی مدد کی اور اختتامی لمحات میں امیر نے اس کو اپنی ارزو پوری کرنے کا موقع دیا۔ امیر نے روزیا کو اپنی تمام دولت اور عقل و تعلیم کا وارث بنایا۔

روزیا نے اپنی عقل اور محبت کی راہ میں اپنی جگہ بنائی اور یتیموں کی مدد کرنے کا عزم کیا۔ وہ اب بھی اپنے والدین کی یادوں کو ساتھ رکھتی تھی، لیکن اب وہ پورے گاؤں کی امید بن چکی تھی۔

یہ کہانی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ زندگی میں کسی بھی حالات میں بھی عزم اور محنت سے ہر مشکل کو پار کیا جا سکتا ہے۔ یتیم یا محتاج ہونے کے باوجود، انسان اپنے ارادوں کو پورا کر سکتا ہے اور دوسروں کی مدد کر کے اچھے کاموں کا حصہ بن سکتا ہے۔

Leave A Reply

Please enter your comment!
Please enter your name here