ایک دن کی بات ہے، ایک گاؤں میں ایک ظالم ساس رہتی تھی۔ اس کا نام نسیم تھا، اور وہ اپنے داماد کو بہت تنگ کرتی تھی۔ داماد کا نام احمد تھا، اور وہ اپنی بیوی کے ساتھ خوشی خوشی رہنا چاہتا تھا۔

نسیم کی ظلم سے تنگ آکر، احمد نے اپنی دوست سلیم کو اپنی پریشانی سنائی۔ سلیم نے احمد کو راہنمائی دی اور کہا کہ وہ اپنی بیوی کے ساتھ صبر سے رہیں اور اس کو سمجھانے کی کوشش کریں۔

احمد نے اس پر عمل کیا اور اس نے اپنی بیوی کی ظلم برتاش کرنے کی کوشش کی۔ وہ اپنی بیوی کے ساتھ محبت کرنے کی کوشش کرتے رہے اور اس نے کبھی بھی اس کے ساتھ برائی نہیں کی۔

احمد کی محبت اور صبر نے نسیم کے دل کو ہل دیا۔ نسیم نے بھی اپنے عملوں پر غور کیا اور اپنی بدلتی عادات کو ترتیب دینے کی کوشش کی۔ وہ احمد کے ساتھ اچھا سلوک کرنے لگی اور گاؤں والوں کے ساتھ بھی اچھی طرح سے پیش آنے لگی۔

اسی طرح، وقت کے ساتھ احمد اور نسیم کی زندگی میں محبت اور خوشی کی برسات آئی۔ نسیم نے اپنی ظلم کی بجائے احمد کے ساتھ محبت کرنے کا فیصلہ کیا اور دونوں ایک خوشی خوشی زندگی گزارنے لگے۔

اس کے بعد، گاؤں والوں نے دیکھا کہ محبت اور صبر کی بنا پر نسیم اور احمد کی زندگی میں خوشیاں آ گئی ہیں۔ ان کی کہانی نے سب کو یہ سکھ دیا کہ محبت اور صبر ہر مشکل کو حل کر سکتے ہیں اور ظلم کو بھی محبت سے کامیابی کی طرف لے جا سکتے ہیں۔

Leave A Reply

Please enter your comment!
Please enter your name here