سونے کی جیل

یہ کہانی ایک دن کی ہے، جب ایک چھوٹے سے گاؤں کے رہائشی ایک مسکین لڑکے کا نام چندرا تھا۔ چندرا کا خواب تھا کہ وہ امیر بنے اور دنیا کے سب سے قیمتی چیزوں کا مالک ہوں۔

ایک دن، چندرا گاؤں کی جنگل میں گھومنے گیا۔ وہ جنگل میں چلتے چلتے ایک قدرتی گفتگونے کی ایک گوفا پر پہنچا جس کا مخروط نیچے کی طرف جھکا ہوا تھا۔ چندرا نے دیکھا کہ گوفے کا دروازہ کھلا ہوا تھا، اور اندر سونے کی بھرمر بھری طرح کی بنائی ہوئی جیل میں کئی سونے تھے۔

چندرا کو دیکھ کر ایک پرانا سونا کا طالب علم، جس کا نام رامو تھا، آگیا۔ رامو نے چندرا سے کہا، “یہاں پر سونے کی جیل ہے جو قدرت کی طرف سے ہمارے لئے دی گئی ایک امتیاز ہے۔ اس جیل کا دروازہ ایک شرط پر کھولتا ہے۔ تمہیں اس شرط کو پورا کرنا ہوگا تاکہ تم اس جیل کو کھول سکو اور سونے کی مال میں محترم بن سکو۔”

چندرا نے رامو سے پوچھا، “شرط کیا ہے؟”

رامو نے ہنس کر جواب دیا، “شرط یہ ہے کہ تمیں ایک سچی دوستی کا اظہار کرو اور دوسروں کی مدد کرو بغیر کسی خودی کے مدد کی امید کیے۔”

چندرا نے تاثر سے سر جھکایا اور رامو کی راہ میں چلا گیا۔ وہ گاؤں واپس آکر اپنی زندگی میں تبدیلی لانے کی کوشش کرنے لگا۔ وہ دوسروں کی مدد کرتا، ان کے لئے وقت اور تعبیر دیتا، اور ان کی مشکلات میں ان کے ساتھ کھڑا ہوتا۔

کچھ مہینے گزر گئے، اور چندرا نے کوششوں کے بعد اچھے دوستوں کی صورت میں کئی سچی دوستی کا اظہار کیا۔

ایک دن، چندرا پھر سے وہی گوفا پہنچا جہاں سونے کی جیل تھی۔ اب وہ جیل کے دروازے پر کھڑا تھا، اور وہ دوستی کی شرط کو پورا کرتا ہوا محترمی کے ساتھ کھڑا تھا۔ دروازہ اچانک کھلا اور چندرا اندر گیا۔

سونے کی جیل میں ایک انگوٹھا اور ایک مچھلی کی شکل کے قیمتی سونے کے دھاتی موجود تھے۔ چندرا نے ان کو لے کر اپنے گاؤں واپس لوٹنے کا فیصلہ کیا اور رامو کی راہ میں چلا گیا۔

اس دوران، چندرا نے اس قیمتی سونے کو استعمال کر کے اپنے گاؤں کو ایک نئی روشنی دی۔ وہ اپنے گاؤں کے لوگوں کو تعلیم دینے کی م

دد کی اور ان کی معیشت کو بہتر بنایا۔

چندرا کی دوستی کی شرط کو پورا کرنے کے بعد، رامو نے سونے کی جیل کا دروازہ دوبارہ کھول دیا اور چندرا کو اس کی بھرمر بھری جیل میں داخل ہونے کی اجازت دی۔

اب چندرا امیر تھا، لیکن وہی عظیمیت اس کی دوستی اور محبت میں تھی جس نے اسے سونے کی جیل کی طرف لے جایا تھا۔ وہ گاؤں کے لوگوں کی مدد کرتا رہا اور دوستوں کی مدد سے دنیا کو بہتر بناتا رہا۔

اس کے بعد، گاؤں کا نام “سونے کی جیل” کے بجائے “دوستی کا گاؤں” ہوگیا اور یہاں کی آبادی ہمیشہ کی لئے خوشیوں اور سکون کی طرف بڑھتی رہی۔ چندرا نے سب کو یہ سکھایا کہ حقیقی مال اور عظیمیت دل کی صفائی میں ہے اور دوستی کی اہمیت کبھی کم نہیں ہوتی۔

Leave A Reply

Please enter your comment!
Please enter your name here