بچہ بغل میں ڈھنڈورا شہر میں

ایک دن، ایک چھوٹے سے گاؤں میں ایک بچہ بغل میں ڈھنڈورا کر کے اپنے دوستوں کے ساتھ کھیل رہا تھا۔ یہ گاؤں بھنڈوکوٹ شہر کے قریب تھا جو کہ ایک خوبصورت اور خوشآباد شہر تھا۔ بچہ کا نام علی تھا، اور وہ اپنے دوستوں کے ساتھ ہر روز کھیلتا اور مستیاں کرتا۔

ایک دن، جب علی اپنے دوستوں کے ساتھ جھولا کھیل رہا تھا، اُس نے ایک سنگیت کی گتھ پایی۔ گتھ بہت خوبصورت تھی اور اس میں رنگوں کی بھرمار تھی۔ علی نے اس گتھ کو اپنے دوستوں کے ساتھ دیکھایا اور سب نے اس کی خوشی کو دیکھ کر حیرانی کا اظہار کیا۔

دوستوں نے علی سے پوچھا، “علی، یہ کیا ہے؟”
علی مسکرا کر جواب دیا، “یہ گتھ ہے جو میں نے جھولے کی جھول کے دوران پائی۔”
ایک دوست نے پوچھا، “یہ گتھ کتنی خوبصورت ہے! کیا تم اسے رکھنا چاہتے ہو؟”
علی نے منہ ہلایا اور کہا، “ہاں، میں اسے رکھنا چاہتا ہوں، لیکن میں اسے شہر کے ڈھنڈورا میں رکھوں گا تاکہ سب لوگ اس کی خوشی سے محروم نہ ہوں۔”

دوستوں نے اس فیصلے کو سونپ دیا اور علی نے گتھ کو اپنی بغل میں ڈھنڈورا کر کے شہر کے رخ نکل پڑا۔ شہر میں جب لوگوں نے علی کو اور اس کی خوشی کو دیکھا، وہ سب حیران ہوگئے۔

شہر کے لوگ علی کے پاس آکر اسے مبارکباد دینے لگے اور وہ سب اس خوشبودار گتھ کو دیکھنے کے لئے اپنے دوستوں کو لے کر گئے۔

شہر کے مسکین بچے اس گتھ کو دیکھ کر خوش ہوگئے اور وہ سب اس کی موسیقی کا لطف اٹھانے لگے۔ گتھ نے شہر کو رنگوں سے بھر دیا اور ہر کونے سے موسیقی کی آوازیں آنے لگیں۔

یہ دکھ کر علی بہت خوش ہوا کہ اس نے گتھ کو شہر کے لوگوں کے لئے رکھا، اور اب وہ گتھ کی خوشی کو سب کے ساتھ اشتراک کر رہا تھا۔

بغل میں ڈھنڈورا کر کے شہر کے لوگوں نے ایک دوسرے کے ساتھ پیار اور خوشی کی باتیں کیں اور یہ دکھایا کہ چھوٹی چیزوں میں بڑی خوشیاں چھپی ہوتی ہیں۔

Leave A Reply

Please enter your comment!
Please enter your name here